ہفتہ 25 جولائی 2026 - 11:27
جمہوریت کا بدلتا چہرہ اور مسلمانوں کے لیے تنگ ہوتی زمین!

حوزہ/ہندوستان کی جمہوری شناخت اس کے آئین، تکثیریت اور مذہبی تنوع سے عبارت رہی ہے۔ مگر نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس جمہوری ڈھانچے کی بنیادیں متزلزل ہوگئیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی جمہوری اور آئینی قدروں پر سوال کھڑے ہوئے، کیونکہ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لیے آئینی برابری محض ایک نظریاتی دعویٰ بن کر رہ گئی۔

تحریر: عادل فراز

حوزہ نیوز ایجنسی| ہندوستان کی جمہوری شناخت اس کے آئین، تکثیریت اور مذہبی تنوع سے عبارت رہی ہے۔ مگر نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس جمہوری ڈھانچے کی بنیادیں متزلزل ہوگئیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی جمہوری اور آئینی قدروں پر سوال کھڑے ہوئے، کیونکہ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لیے آئینی برابری محض ایک نظریاتی دعویٰ بن کر رہ گئی۔ مقتدر جماعت کے رہنماؤں کی اشتعال انگیز تقریریں، مسلمانوں کے بائیکاٹ اور نسل کشی کی اپیلیں، شمشان اور قبرستان کی سیاست، فسادیوں کو ان کے کپڑوں سے پہچاننے کے نعرے، مزاحمتی آوازوں کو کچلنے کی روایت، بلڈوزر کلچر کا فروغ، مذہبی اور سماجی تشخص پر حملے اور مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی حکمت عملی نے ہندوستان کی جمہوری اور آئینی حیثیت کو شدید متاثر کیا ۔موجودہ سیاسی اور سماجی صور تحال کو سمجھنے کے لئے ریاست گجرات میں تیار کی گئی 'ایس او پی (Standard Operating Procedure) کو ملاحظہ کیاجاسکتاہے۔ یہ محض ایک 'ایس او پی نہیں، بلکہ مسلمانوں کی مذہبی اور سماجی آزادی سلب کرنے کی راہ میں بڑھایا گیا ایک اور قدم ہے۔جبکہ 2002 کے گجرات فساد اور اس کے بعد یا گزشتہ ایک دہائی میں ملک کے دیگر حصوں میں سامنے آنے والی ہندو انتہا پسندی کی کسی علامت کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔

15 جون کو گجرات اسٹیٹ پولیس سروس (SPS) کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (انٹیلی جنس) پرفل وانیا نے ایک نوٹس جاری کیا، جس میں نئی اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل (ARC) کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس نوٹس میں ان اقدامات کی مرحلہ وار تفصیل بھی دی گئی ہے جن کے ذریعے پولیس کے مطابق انتہا پسندی کی شناخت، اس پر قابو، سراغ رسانی، مداخلت اور سماجی نظم کی بحالی کی جائے گی۔سب سے پہلے یہ خبر ’دی وائر ‘ میں شائع ہوئی اور سایٹ نے اس حوالے سے ایک مفصل رپورٹ شائع کی۔بی جے پی نے گجرات اسمبلی انتخابات ۲۰۲۲ء کے انتخابی منشور میں انتہاپسندی انسداد سیل کے قیام کا وعدہ کیا تھا، جسے اب عملی شکل دی گئی ہے۔ سفارشات کے بعد گاندھی نگر میں قائم راشٹریہ رکھشا یونیورسٹی کے فیکلٹی سربراہ، ریاستی انسداددہشت گردی اسکواڈ، کرائم برانچ اور احمد آباد سینٹرل جیل کے پولیس حکام پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی تھی، لیکن مبینہ طور پر فنڈز کی کمی کے سبب یہ منصوبہ شروع نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد ۲۰۲۳ء میں گجرات حکومت نے اس پر دوبارہ کام شروع کیا اور موجودہ سال اپریل میں ’اے آر سی‘ کو باضابطہ منظوری دے دی۔ وزارت داخلہ گجرات نے اپریل ۲۰۲۶ء میں اے آر سی کے لیے ۱۳۹ نئی تقرریاں کرنے کو منظوری دی۔ ۱۵ جون کو ’ایس او پی‘ کے مسودے کو ضلع اور کمشنریٹ کے دفاتر میں بھیج دیا گیا، جس کے بعد اے آر سی کے اختیارات اور اسے عملی شکل دینے پر کام شروع ہوا۔’ ایس او پی ‘میں داڑھی، نقاب،اعتکاف، مشرق وسطیٰ کے سفر، سگنل (Signal) ایپ کے استعمال اور سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے حقوق کی حمایت جیسے امور کو مشتبہ قرار دیا گیا ہے۔ درحقیقت یہ دستاویز عام مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے، جبکہ گاؤ رکشا کے نام پر تشدد کرنے والے گروہوں اور ہندوتوا انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے بائیکاٹ یا قتل کی کھلی اپیلوں پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔جس ’ایس او پی‘ میں عربی زبان کے الفاظ کے استعمال پر بھی مسلمانوں کو انتہاپسند قرار دے دیا جائے، اس کے مزید خطرات کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔بہرکیف!آئیے پہلے اس دستاویز کے بعض نکات کا مطالعہ کرتے ہیں۔دستاویز کے مطابق انتہاپسندی کی علامتیں اس طرح بیان کی گئی ہیں:عربی زبان کے الفاظ کا زیادہ استعمال ۔دوستوں اور خاندان کے افراد سے اچانک میل جول کم کردینا۔عالمی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر غم وغصے کا اظہار یا احتجاج کرنا۔دہشت گردوں کی تعریف کرنا۔افغانستان یا مشرق وسطیٰ کے سفر کے بعد رویے میں تبدیلی آنا۔دستاویز میں مزید کہاگیاہے کہ ایسے افرادپر نظر رکھناضروری ہے جو دینی مدارس میں زیادہ آمدورفت رکھتے ہیں،اعتکاف کرتے ہیں،اسلامی فریضے کا حوالہ دے کر اچانک تعلیم یا ملازمت چھوڑ دیتے ہیں،جیل سے رہائی کے بعد انتہاپسند مذہبی رہنمائوں سے ملاقات کرتے ہیں۔اس کے علاوہ پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ مدارس میں تدریس کرنے والے علماء کی فہرست بنائی جائے اور ان کے متعلق معلومات جمع کی جائیں کہ آیا ان کا کسی انتہاپسند تنظیم سے تعلق تونہیں ہے ۔دستاویز کے ان نکات سے اندازہ ہوجاتاہے کہ اس کے نفاذ کا مقصد صرف مسلمانوں کو ہراساں کرنااور ان پر دائرۂ حیات تنگ کرناہے ۔ورنہ ہندوستان میں نہ جانے کتنی انتہاپسندغیر مسلم تنظمیں ہیں جو مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف کام کررہی ہیں ،مگر ان کے خلاف کبھی کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ،کیونکہ وہ حکومت کی پشت پناہ ہیں۔

بی جے پی دوراقتدار میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب مسلمانوں پر سماجی، معاشی اور سیاسی حلقہ تنگ کیا جارہا ہے، بلکہ یہ سلسلہ گزشتہ ایک دہائی سے جاری ہے۔ ان کے گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کیا جارہا ہے اور عدالتی انتباہات کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی۔ مذہبی جلوسوں میں ان کی نسل کشی کے نعرے لگتے ہیں، فرقہ وارانہ فساد کے بعد یک طرفہ انتظامی اقدامات ہوتے ہیں، اور وقف قانون میں تبدیلی کرکے اوقاف کی املاک کو ہڑپنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اتنا ہی نہیں، وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرکے مسلمانوں کے وقار اور مذہبی خودمختاری کو بھی مجروح کیاگیا۔کبھی شہریت قانون کے ذریعے مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش ہوتی ہے، تو کبھی مردم شماری اور رائے دہندگان کی فہرست کے حوالے سے انہیں کمزور کیا جاتا ہے۔ کبھی مذہبی شناخت کو روزگار، تجارت اور سماجی رابطے کے انقطاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے تمام واقعات کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے اگر ایک مکمل بیانیے کے طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کے لیے عوامی زندگی کی گنجائش بتدریج محدود کی جارہی ہے۔اس حکمت عملی کے ذریعے براہِ راست کسی شہری کو اس کے آئینی حقوق سے محروم کرنے کے بجائے ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں جن میں وہ خود کو غیر محفوظ، غیر یقینی اور مسلسل دفاعی کیفیت میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کیفیت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایک پوری برادری اپنی توانائیاں ترقی، تعلیم اور معیشت کے بجائے اپنی بنیادی شناخت اور حقوق کے تحفظ پر صرف کرنے لگتی ہے۔

یرقانی تنظیموں کی سیاست نے ہندوستان کے تکثیری سماج کے سیکولر کردار کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہیں باور کرایا گیا ہے کہ تقسیم کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودگی اور ان کی بڑھتی ہوئی آبادی نے اکثریتی طبقے کے حقوق اور مراعات کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی ذہنی سازی اور مذہبی منافرت کو ان کے دل ودماغ میں اتارنے کے لیے تربیتی کلاسوں کا اہتمام کیا۔ نتیجتاً ہندوستان کی نوجوان نسل تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی پس منظر سے ناواقف، خالص یرقانی پروپیگنڈے کا شکار ہوگئی۔البتہ اس کی تمام تر ذمہ داری یرقانی تنظیموں پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ اس میں مسلمانوں کی ناقص حکمت عملی اور غفلت کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ آزادی کے بعد مسلمانوں نے تعلیم اور تجارت پر توجہ دینے کے بجائے مذہبی معاملات پر زیادہ زور دیا۔ مدرسے، مسجدیں، امام باڑے اور خانقاہیں تعمیر کرتے رہے، مگر اسکولوں، کالجوں ، یونیورسٹیوں اور اقتصادی معاملات کی طرف توجہ نہیں دی۔ غیر مسلموں کے ساتھ مکالمہ قائم نہیں کیا اور ان کے دماغ میں موجود غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کے بجائے احساس برتری کا شکار رہے۔انہیں چاہیے تھاکہ غیر مسلموں کے ساتھ مکالمے کی فضا سازگار بناتے۔ ہندوستان میں اب بھی ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو یرقانی تنظیموں کے ڈھرّے سے ہٹ کر سوچتے ہیں۔ لہٰذا مسلم رہنماؤں اور مسلم راشٹریہ منچ کے گرداب میں پھنسے دانشوروں کو آزادانہ طور پر ایسے افراد سے مکالمہ قائم کرکے مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔یاد رکھیے، مسلم سماجی اور سیاسی مسائل کے حل میں سنگھ اور اس کی ذیلی تنظیموں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لہٰذا ان کی شاخوں کے چکر کاٹنے اورشخصی مفاد کے بجائے روشن خیال غیر مسلموں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ قومی مفاد حاصل ہوسکے۔ اس کے لیے پہلے خود بھی روشن خیالی کی مثال قائم کرنی پڑے گی، جس کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔اس کے علاوہ ’ایس اوپی ‘ کو عدلیہ میں بھی چیلینج کرناچاہیے تاکہ تاریخ یاد رکھے کہ مسلمان اپنی حق تلفی اور ریاستی ناانصافی کے خلاف مزاحمت سے پیچھے نہیں ہٹے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha